Sunday, September 19, 2010

Asli Islami Zindagi aur Is ka Masaali Namoona

اصلی اسلامی زندگی اور اس کا مثالی نمونہ


اللہ کا شکر ہے کہ ہم اور آپ دین کے کام اور اپنی آخرت کی فکر کے سلسلے میں یہاں جمع ہوئے ہیں‘ انسانوں کی بڑی تعداد کا کسی ایک جگہ جمع ہوجانا کوئی خاص بات نہیں ہے‘ آپ کسی بازار میں نکل جایئے‘ اس سے زیادہ مجمع نظر آجائے گا‘ کسی بڑے اسٹیشن پر چلے جایئے‘ اس سے بہت زیادہ آدمیوں کو آپ وہاں دیکھ لیں گے‘ کسی سینما کے پاس سے گذر کر دیکھئے‘ اس سے بہت بڑی بھیڑ آپ کو نظر آجائے گی‘ لیکن اللہ کا بڑا فضل ہے اپنے ان بندوں پر جو اللہ کا نام بلند کرنے کے لئے اور اس کے دین کی فکر میں کہیں جمع ہوجائیں۔ حدیث میں آتاہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا ان لوگوں کو بھی دیتاہے جن سے اس کو محبت ہوتی ہے‘ اور ان کو بھی دیتاہے جن سے اس کو محبت نہیں ہوتی‘ لیکن دین کی دولت وہ صرف انہیں بندوں کو دیتاہے جن سے وہ راضی ہوتاہے اور جن سے اس کومحبت ہوتی ہے۔ پس آج ہمارا اور آپ کا اس جگہ جمع ہونا در حقیقت ہم سب پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ اپنے کروڑوں بندوں میں سے ہم کو اس نے توفیق دی کہ اس کے مقدس دین کے کام کے لئے اور اس سے ٹوٹا ہوا تعلق جوڑنے کی فکر میں ہم یہاں جمع ہوگئے‘ ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ اس انعام واحسان کا شکر ادا کریں۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے:
”رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علیّ وعلی والدیّ وان اعمل صالحاً ترضاہ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین“ (النمل:۱۹)
ترجمہ :․․․”میرے رب ! میری قسمت میں کر کہ جو نعمتیں تونے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائیں‘ میں ان کا شکر ادا کروں اور ایسے عمل کروں جن سے تو راضی ہو اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما“۔
ان چند تمہیدی جملوں کے بعد میں وہ بات کہنا چاہتاہوں جس کے عرض کرنے کا میں نے اس صحبت میں ارادہ کیا ہے۔ حضرات! اتنی بات تو ہم آپ سب ہی جانتے ہیں کہ اسلام کسی ذات برادری کا نام نہیں ہے‘ بلکہ زندگی گذارنے کے اس خاص طریقے کا نام اسلام ہے جو اپنے بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا ہے‘ اور جس کی تعلیم ہرزمانے میں اس کے پیغمبروں نے اپنی اپنی قوموں اور امتوں کو دی تھی‘ اور سب سے آخر میں آخری اور مکمل شکل میں اسی کی تعلیم حضرت محمد رسول اللہ ا نے دی‘ قرآن مجید اسی طریقہٴ زندگی کا بنیادی دستور ہے۔ بہرحال اسلام کسی خاص قومیت کا نام نہیں ہے‘ بلکہ جیساکہ عرض کیا گیا وہ ایک خاص طریقہٴ زندگی کا نام ہے‘ اور اسی طریقے کے اختیار کرنے والوں کا نام مسلم ہے۔ آپ اس کو یوں سمجھئے کہ مسلمان ہونا ایسا نہیں ہے جیسے شیخ‘ سید‘ مغل‘ یا پٹھان ہونا۔شیخ یا سید یا مغل پٹھان ہونے کے لئے کوئی خاص علم وعمل یا زندگی کا کوئی خاص طریقہ اختیار کرنا ضروری نہیں ہے‘ بلکہ ہروہ شخص سید یا شیخ کہلاتاہے جو کسی سید یا شیخ کے گھر میں جنم لے لے۔ اسی طرح جو شخص کسی مغل خاندان یا پٹھان خاندان میں پیدا ہوجائے وہ آپ سے آپ باپ دادا کے مغل یا پٹھان ہونے کی وجہ سے مغل اور پٹھان کہلاتاہے۔ لیکن مسلمان ہونے کے لئے یہ بالکل کافی نہیں ہے کہ کسی مسلمان خاندان میں آدمی پیدا ہوجائے‘ بلکہ مسلمان صرف وہی شخص ہوسکتاہے جو رسول اللہ اکے لائے ہوئے اس دین پر یعنی زندگی کے اس طریقے پر ایمان لائے جس کا نام اسلام ہے‘ اور اسی کو اپنا دین اور اپنی زندگی کا طریقہ بنالے۔ الغرض اسلام کوئی قومیت نہیں ہے‘ بلکہ وہ انسانوں کے لئے زندگی گذارنے کا ایک خاص طریقہ ہے جس میں عقائد‘ عبادات اور اخلاص وعادات اور معاشرت ومعاملات‘ غرض زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق احکام اور ہدایتیں ہیں۔ اسلام کی حقیقت سمجھنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ رسول اللہ ا کی تعلیم وتربیت سے صحابہٴ کرام نے زندگی کا جو طریقہ سیکھا تھا اور وہ جس طرح زندگی گذارتے تھے بس اس کو دیکھ لیا جائے‘ ان کی زندگی قیامت تک کے لئے اسلام کا نمونہ اور معیار ہے۔ اسلام چونکہ ایک خاص قسم کی زندگی کا نام ہے‘ اس لئے اس کو اسلام والوں کی زندگی ہی سے اچھی طرح سمجھا جاسکتاہے اور اس کے لئے وہی نمونہ زیادہ قابل اعتبار ہوسکتاہے جو خود حضور اکی تعلیم وتربیت سے تیار ہوا تھا۔ صحابہٴ کرام کی زندگیوں میں آپ کو دو طرح کی چیزیں ملیں گی۔ ایک ان میں سے بعض حضرات کے وہ خاص کمالات جو بعض میں ہیں اور دوسروں میں نہیں ہیں‘ مثلاً حضرت ابوبکر بعض ایسے کمالات کے حامل ہیں جو حضرت عمر میں بھی نہیں ہیں‘ اسی طرح حضرت عمر میں بعض وہ کمالات ہیں جو ان کے علاوہ عام صحابہٴ کرام میں نہیں ہیں۔ اس قسم کے شخصی اور انفرادی کمالات کو ہم عمومی اسلامی زندگی کا نمونہ اور معیار نہیں کہہ سکتے‘ لیکن جو چیزیں صحابہٴ کرام کی پوری جماعت میں مشترک ہیں‘ جن سے ان کا کوئی فرد بھی خالی نہیں‘ نہ امیر نہ غریب‘ نہ مرد نہ عورت‘ نہ بوڑھا نہ جوان‘ نہ پڑھا نہ بے پڑھا‘ نہ عربی نہ عجمی‘ تو ان چیزوں کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ یہ اسلامی زندگی کے وہ اجزاء ہیں جن سے کسی مسلمان کو بھی خالی نہ ہونا چاہئے․․․․ میں اس وقت آپ کے سامنے صحابہٴ کرام کی زندگی کی چند وہی باتیں پیش کرنا چاہتاہوں جو ان کی پوری جماعت میں عام طور سے پائی جاتی تھیں اور جن میں کسی بڑے چھوٹے کی کوئی خصوصیت نہیں تھی۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے جس چیز کا ذکر مناسب ہوگا وہ یہ ہے کہ ان سب حضرات کا ایمان حقیقی اور شعوری تھا یعنی وہ جانتے تھے کہ اللہ ورسول ا پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے اور اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں،آج جو مسلمان قوم ہمارے سامنے ہے‘ اس میں بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے زندگی بھر میں کبھی ایک دفعہ بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ہمارے مسلمان ہونے کا کیا مطلب ہے اور ایمان واسلام کی کیا حقیقت ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جو اسلامی کلمہ تک سے ناواقف ہیں‘ بہت سے ہیں جنہیں کلمہ کے الفاظ اگر معلوم ہیں تو اس کے معنی ومطلب سے وہ آشنا نہیں ہیں‘ بہت سے ہیں جنہیں ایمان واسلام کی ذمہ داریوں کا کوئی پتہ نہیں اور پتہ لگانے کی کوئی فکر بھی نہیں ہے؟․․․․ لیکن صحابہٴ کرام میں اس طرح کا ایک آدمی بلکہ کوئی بچہ بھی نہیں ملے گا۔ ان میں سے ہرفرد جانتا تھا اور خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ میرے مومن ومسلم ہونے کا مطلب کیا ہے۔ ان میں سے جو شخص جس وقت اسلام کا کلمہ پڑھ کر اسلام میں آتا تھا‘ وہ اسی وقت سے خوب سمجھتا تھا کہ میں نے کیا فیصلہ کیا۔ بھائیو! ”لاالٰہ الا اللہ“ میں اس بات کا عہد واقرار ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود ومالک نہیں‘ ہم اس کے اور صرف اسی کے بندے ہیں‘ ہم اس کی عبادت کریں گے اور اپنی پوری زندگی کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اسی کی بندگی میں گذاریں گے جس طرح کہ ایک بندہ کو گذارنا چاہئے۔ اور ”محمد رسول اللہ“ میں اس بات کا فیصلہ اور اعلان ہے کہ ہم نے حضرت محمدا کو خدا کا رسول مان لیا‘ اور اب ہم ایک امتی کی حیثیت سے آپ کے ہرحکم کو مانیں گے اور جس راستے پر آپ چلائیں گے‘ اس پر چلیں گے۔ تو میں یہ عرض کررہا تھا کہ صحابہٴ کرام میں ہرشخص ایمان کی حقیقت کو جانتا تھا اور سمجھتا تھا کہ ایمان لانے کے بعد اب میں زندگی گذارنے میں آزاد نہیں ہوں کہ جس طرح چاہوں زندگی گذاروں‘ بلکہ اب مجھے اللہ کی بندگی والی اور رسول کی پیروی والی زندگی گذارنی ہے‘ اسی لئے ایمان لانے اور اسلام میں آنے کے بعد سب سے پہلی فکر ان کو یہ ہوتی تھی کہ وہ ایمان والی اور بندگی والی اس زندگی کو سیکھیں جس کی تعلیم رسول اللہ ا دیتے تھے۔ اس کا یہ نتیجہ ہوتا تھا کہ ان میں کا ہر شخص بقدرِ ضرورت دین سیکھنا ضروری سمجھتا تھا اور کسی نہ کسی طرح سیکھ لیتا تھا ․․․․․․․ تو حقیقی اور شعوری ایمان کے بعد دوسری چیز جو ان میں عام تھی وہ دین کا ضروری علم تھا۔ آپ میں سے بہت سے حضرات اس بات سے واقف ہوں گے کہ صحابہٴ کرام میں بہت بڑی تعداد ایسے حضرات کی تھی جو لکھنا پڑھنا بالکل نہیں جانتے تھے‘ یہاں تک کہ اگر آپ کا غذ‘قلم ان کے سامنے رکھ کر درخواست کرتے کہ آپ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ لکھ دیجئے‘ یا اپنا نام ہی اس کاغذ پر لکھ دیجئے‘ تاکہ آپ کی ایک متبرک یادگار ہمارے پاس رہے تو وہ بڑی سادگی سے آپ سے کہہ دیتے کہ ہم لکھنا نہیں جانتے۔ اسی طرح اگر آپ قرآن شریف کی کوئی سورت مثلاً ”الحمد شریف“ ہی کاغذ پر لکھ کر ان کے سامنے رکھتے اور عرض کرتے ذرا اس کو پڑھ کر سنا دیجئے! تو وہ (سورہٴ فاتحہ زبانی یاد ہونے کے باوجود) بڑی بے تکلفی اور سچائی سے کہہ دیتے کہ ہم پڑھے لکھے نہیں ہیں․․․․ لیکن صحابہٴ کرام میں جو اس طرح کے ان پڑھ تھے‘ وہ بھی دین سے نا واقف نہ تھے۔ وہ حضور ا کی صحبت میں حاضر ہوکر‘ آپ ا کی باتیں سن سن کر اور آپ ا کا طریقِ عمل دیکھ دیکھ کر اور ضرورت کے موقعوں پر آپ سے پوچھ پوچھ کر ضروری درجہ کا علمِ دین حاصل کرلیتے تھے‘ اور اسی طرح بغیر لکھے پڑھے زبانی ہی قرآن شریف بھی یاد کرلیتے تھے․․․․․ الغرض صحابہٴ کرام میں جس طرح یہ بات عام تھی کہ وہ سب ایمان واسلام کی حقیقت جانتے تھے اور اس کی ذمہ داریوں کو سمجھتے تھے‘ اسی طرح دوسری بات ان میں یہ بھی عام تھی کہ ہرشخص اپنی ضرورت کے بقدر دین سیکھنا ضروری سمجھتا تھا اور اس پوری جماعت میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جس کو دین سیکھنے کی فکر نہ ہو‘ اور جو دین کے ضروری احکام سے ناواقف ہو۔ تیسری چیز ان میں جو عام تھی کہ ان میں سے ہرشخص دین کے متعلق جو کچھ جانتا تھا‘ اس پر عمل کرنا چاہتا تھا‘ بلکہ دین کا علم اسی لئے حاصل کرتا تھا کہ اس کے مطابق زندگی گذاری جاسکے۔ آج کل کے نوے فیصدی سے زیادہ مسلمانوں کی جو یہ حالت ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ نماز فرض ہے‘ لیکن نہیں پڑھتے‘ جانتے ہیں کہ زکوٰة فرض ہے‘ لیکن نہیں ادا کرتے ‘ جانتے ہیں کہ جھوٹ حرام ہے‘ لیکن اس سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے ․․․․․ صحابہٴ کرام کی پوری جماعت میں کوئی ایک شخص بھی اس طرح کا نہیں ملے گا جو دین کی باتیں اور دینی احکام جانتا ہو‘ مگر ان پر عمل کرنے کی کوشش نہ کرتاہو‘اور اپنی عملی زندگی میں اللہ کے ان احکام سے بے پرواہو جن کو وہ جانتا ہے․․․․ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں احکام پر عمل تو وہ لوگ بھی کرتے تھے جو سچے اور مخلص مومن نہ تھے‘ جن کو قرآن شریف میں منافق کہا گیا ہے۔آپ میں سے جو حضرات زمانہٴ نبوی ا کے حالات سے واقف ہیں‘ وہ جانتے ہوں گے کہ اس زمانہ میں منافقین بھی مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں جماعت سے نماز پڑھتے تھے‘ زکوٰة بھی ان کو ادا کرنی پڑتی تھی‘ اور مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں وہ شریک رہتے تھے‘ کیونکہ اس زمانہ میں مسلمانوں کی عام زندگی یہی تھی‘ اور جو شخص اسلام کے ان مطالبات کو ادا نہ کرتا‘ وہ ایمان والوں کی جماعت میں شمار نہیں ہوسکتا تھا․․․․الغرض صحابہٴ کرام کی جماعت میں اور اس وقت کی اسلامی سوسائٹی میں‘ اسلامی احکام پر عمل تو اتنا عام تھا کہ سچے اور مخلص مسلمانوں کے ساتھ ان منافقوں کو بھی عمل کرنا پڑتا تھا جن کے دلوں میں پورا ایمان بھی نہ تھا۔ چوتھی چیز صحابہٴ کرام کی زندگی میں جو ہم کو عام اور مشترک ملتی ہے وہ خدا کا خوف‘ اور آخرت کی فکر ہے‘ پورے یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ صحابہ کی پوری جماعت میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھاجس کے دل پر خدا کے خوف کا غلبہ نہ ہو اور جس کو آخرت کی فکر دنیاکی ساری فکروں سے زیادہ نہ ہو‘ حتیٰ کہ ان میں سے جن بزرگوں کو زندگی ہی میں نبوت کی زبان سے جنت کی بشارت مل چکی تھی‘ ان کا حال بھی یہی تھا کہ خدا کے خوف سے روتے روتے ان کی آنکھوں کی سیاہی پھیکی پڑ گئی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق کے متعلق کتابوں میں نقل کیا گیا ہے کہ آنکھوں سے آنسو جاری رہنے کی وجہ سے ان کی آنکھوں کا رنگ بدل گیا تھا اور ان کے چہرے پر آنسو بہنے کی جگہ دو نیلگوں خط سے پڑ گئے تھے‘ اور کبھی رورو کر کہا کرتے تھے کہ کاش! میں جنگل کا کوئی درخت ہوتا جس کو کاٹا جاتا‘یا گھاس کا پودا ہوتا جس کو کوئی جانور چرلیتا‘ اور آخرت میں مجھے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی نہ پڑتی ․․․ اسی طرح حضرت عمر  کا یہ حال تھا‘ فطری طور پر مضبوط دل اور طاقت ور ہونے کے باوجود کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ عذاب کی کوئی آیت سن کر بیمار پڑ جاتے‘ جب شہید کئے گئے ہیں تو روتے تھے‘ خنجر کے زخم کی تکلیف سے نہیں‘ بلکہ اللہ کے عذاب اور آخرت کے حساب وکتاب کی فکر سے‘ یہاں تک کہ جب حضرت صہیب نے ان کو تسلی دی اور بتلایا کہ آپ دنیا میں اللہ کی رضا کے ایسے ایسے کام کرکے جارہے ہیں‘ اور آپ نے اللہ ورسول ا کی وفاداری اور دین کی اور مسلمانوں کی خدمت کا حق ادا کردیا ہے‘ تو فرمایا کہ: اگر اللہ تعالیٰ مجھے برابر سرابر پر بھی چھوڑ دے یعنی نیکیوں کا ثواب نہ ملے‘ اور خطاؤں پر عذاب نہ ہو تو میں سمجھوں گا کہ کامیاب ہوگیا ․․․․․ اسی طرح حضرت علی مرتضیٰ کے دیکھنے والوں نے بیان کیا ہے کہ ہم نے ان کو راتوں کی اندھیری اور تنہائی میں اس طرح بلک بلک کر روتے دیکھا ہے‘ جیسے کسی زہریلے جانور کا ڈسا ہوا آدمی روتاہے ․․․․․ اور یہ تو اکابر صحابہ ہیں میں تو کہتا ہوں کہ ان میں جو لوگ ادنیٰ درجہ (یعنی جو اکابر صحابہ کی نسبت سے ادنیٰ تھے‘ ورنہ فی الحقیقت ان میں کوئی ادنیٰ نہ تھا) کے تھے‘ اور جن سے کبھی کبھی بڑے بڑے گناہ بھی ہوگئے ہیں‘ ان کا حال بھی یہ تھا کہ گناہ کرنے کے بعد خدا کے خوف اور آخرت کے عذاب کے خیال سے دنیا ان کے لئے بے مزہ اور زندگی دو بھر ہوجاتی تھی‘ اور عذابِ آخرت سے بچنے کے لئے وہ بڑی سے بڑی سزا کے لئے اپنے کو پیش کردیتے تھے اور جب تک وہ سزا ان کو مل نہ جاتی تھی انہیں چین نہ آتا تھا۔ حضرت ماعز ایک صحابی ہیں‘ ان سے بہت بڑا گناہ ہوگیا یعنی بے چارے زنا کے مرتکب ہوگئے‘ نفس کے تقاضے سے یہ گناہ تو کر بیٹھے‘ لیکن خدا کے خوف کا اتنا غلبہ ہوا کہ خود حضور ا کی خدمت میں آکر عرض کردیا کہ: حضرت ! مجھ سے ایسی ناپاک حرکت ہوگئی ہے‘ لہذا مجھے پاک کرا دیجئے یعنی مجھے شرعی سزا دلوا دیجئے‘ یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت ماعز کنوارے نہ تھے‘ شادی شدہ تھے اور جانتے تھے کہ شادی شدہ آدمی اگر ایسا کرے تو اس کی سزا سنگساری ہے‘ جس کا طریقہ یہ تھاکہ اس شخص کو پتھروں وغیرہ سے مارمار کر ہلاک کردیا جاتا تھا۔ بہرحال حضرت ماعز جانتے تھے کہ مجھے کیا سزا دی جائے گی اور وہ کتنی سخت ہوگی‘ اور سزا کے علاوہ میری کیسی رسوائی ہوگی‘ مگر اس کے باوجود خدا کا خوف اور آخرت کے عذاب اور رسوائی کا یقین ان کو کھینچ کر حضور ا کی خدمت میں لے آیا‘ حالانکہ ان کے متعلق کوئی رپورٹ نہیں تھی‘ اور اگر وہ خود اپنے جرم کو چھپالیتے تو شاید آج تک کسی کو اطلاع نہ ہوتی‘ لیکن آخرت کے عذاب کا خیال ان پر اس قدر غالب آیا کہ سنگساری کی تکلیف کو انہوں نے اس کے مقابلہ میں بہت ہلکا سمجھا‘ اور خود حضوا سے اس سزا کی درخواست کی‘ اور جب حضور ا نے ایک خاص اصول کے ماتحت ان کو کوئی جواب نہیں دیا‘ اور سزا کا بھی حکم نہیں دیا‘ تو انہوں نے دوبارہ اور پھر سہ بارہ حضور ا کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کیا‘ اور سزا کی درخواست پر اصرار کیا‘ جس کے بعد ان کو سزا دی گئی اور سنگسار کردئے گئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ اور اس سے زیادہ عبرت کا واقعہ ایک صحابی عورت کا ہے‘ جن کو حدیث میں غامدیہ کہا گیا ہے۔ اس اللہ کی بندی سے بھی وہی گناہ ہو گیا تھا یعنی یہ بے چاری بھی نفس کی خواہش سے مغلوب ہوکر زنا کی مرتکب ہوگئی تھی اور کسی کو بھی اس کے اس گناہ کی اطلاع نہیں تھی‘ مگر اس کو یقین تھا کہ اللہ کو میرے اس گناہ کا علم ہے اور اس کا عذاب دنیا کی ساری تکلیفوں سے زیادہ سخت ہے‘ پس اللہ کے عذاب ہی کے خوف نے اسے بھی مجبور کیا اور وہ بھی خود ہی حضورا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: حضرت! مجھ سے ایسا ناپاک کام ہوگیا ہے‘ لہذا مجھے سزا دلا کر پاک کر دیجئے۔ حضورا نے پہلے کوئی توجہ ان کی طرف نہیں فرمائی‘ گویا کہ آپ نے سناہی نہیں کہ کسی نے کیا کہا ہے۔ حضور ا کی اس بے توجہی کو دیکھ کر پھر اس بندی نے عرض کیا کہ حضور ا یہ بات میں کسی پاگل پنے سے نہیں کہہ رہی ہوں‘ میں ہوش وحواس میں ہوں‘ اور واقعةً مجھ سے یہ ناپاک گناہ ہوگیا ہے‘ لہذا مجھے سنگسار کرا دیجئے‘ تاکہ آخرت کے عذاب سے میں بچ جاؤں۔ اسی سلسلے میں اس نے حضور ا کو یہ بھی بتلادیا کہ میرا اندازہ ہے کہ اس زنا سے مجھے حمل بھی رہ گیا ہے‘ جب حضورا نے یہ سنا تو فرمایا کہ: اگر ایسا ہے تو پھر آنا (بچے کے پیٹ میں ہوتے ہوئے شرعی سزا نہیں دی جاسکتی‘ جو جان بے قصور ہے‘ اسے کیوں ہلاک کیا جائے) بہرحال حضور ا نے اس عورت کو واپس کردیا‘ حمل کی مدت پوری ہو جانے پر جب بچہ پیدا ہوا تو اللہ کی یہ بندی نومولود بچے کو ہاتھوں میں اٹھائے پھر حضور ا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ: میں فلاں گنہگار عورت ہوں‘ اب یہ بچہ ہو چکا‘ لہذا اب مجھے سزا دلا کر پاک کردیا جائے۔ حضورا نے فرمایا: ابھی نہیں‘ ابھی اس بچے کو تمہارے دودھ کی ضرورت ہے‘ جاؤ جب یہ تمہارے دودھ کا محتاج نہ رہے اور روٹی کھانے کے قابل ہوجائے‘ تب ہمارے پاس آنا‘ چنانچہ یہ اللہ کی بندی بچے کو پالتی رہی اور جب وہ ٹکڑا چبانے کے قابل ہوگیا تو بچے کو گود میں لے کر اس ہیئت کے ساتھ حضور ا کی خدمت میں حاضر ہوئی کہ روٹی کا ایک ٹکڑا بچے کے ہاتھ میں دے رکھا تھا اور وہ اس کو چبا چباکر کھا رہا تھا۔ بہرحال اس شان کے ساتھ خدمتِ نبوی ا میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : حضرت! میں فلاں گنہگار عورت ہوں جس کی سزا کو آپ نے اس بچے کی پرورش کی وجہ سے اب تک ملتوی کیا ہے‘ اب اس بچے کو میرے دودھ کی ضرورت نہیں رہی‘ دیکھ لیجئے‘ یہ روٹی کھانے لگا ہے‘ لہذا اب اس کو کسی کے سپرد فرما دیجئے اور مجھے سنگسار کرا دیجئے‘ تاکہ آخرت کے عذاب کی طرف سے مجھے اطمینان ہوجائے‘ چنانچہ حضورا کے حکم سے یہ اللہ کی بندی سنگسار کردی گئی۔ سنگسار کرنے والوں میں ایک مشہور صحابی تھے‘ ان کی زبان سے ایک سخت کلمہ اس بے چاری کے متعلق نکلا‘ حضور ا کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے ان صحابی سے فرمایا کہ تم نے ایسا کلمہ اللہ کی اس بندی کے متعلق کہا‘ تمہیں کیا خبر ہے‘ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر سب اہلِ مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو سب کی نجات کے لئے کافی ہو۔ ان دونوں واقعوں میں یہ بات خاص طور سے قابل غور ہے کہ بغیر کسی رپورٹ یا شہادت کے خود انہوں نے اپنے جرم کی اطلاع کی اور اصرار کے ساتھ سزا کی درخواست کی اور خاص طور سے غامدیہ کو کئی دفعہ اس کا موقع ملا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہے تو حضور ا کی خدمت میں حاضر نہ ہو‘ کیونکہ وہاں کوئی ضمانت ومچلکہ تو تھا نہیں اور درمیان میں اتنا زمانہ بھی گذرا‘ جس میں اس کے دل میں سینکڑوں‘ ہزاروں دفعہ زندگی کی بہاروں اور دنیا کی لذتوں کا خیال آیا ہوگا‘ اور شاید طرح طرح کے وسوسے شیطان نے دل میں ڈالے ہوں گے‘ لیکن اللہ کا خوف اور آخرت کے عذاب کا ڈر اتنا غالب تھا کہ اس نے زندگی مشکل کردی تھی اور ساری لذتوں کی طرف سے دل سرد کردیا تھا‘ یہ حال ان مردوں اور عورتوں کا تھا جن سے زنا جیسے گناہ ہوئے‘ بس اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ صحابہٴ کرام کی جماعت میں خدا کا خوف اور آخرت کا فکر کس درجہ عام تھا۔ سچ بات یہ ہے کہ آج ہم لوگوں کے لئے اس کا اندازہ کرنا بھی دشوار ہے اور ہم مسلمانوں کو دیکھ کر ہمارے بزرگوں کے ان واقعات پر یقین لانا بھی آج دنیا کے لئے مشکل ہے۔ صحابہٴ کرام کی اس صفت کو دوسری طرح یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ ان کی زندگی خدا سے غفلت اور آخرت فراموشی کی زندگی نہیں تھی‘ اللہ کا اور اس کے حکموں کا اور اس کے عذاب اور مواخذہ کا انہیں برابر دھیان رہتا تھا‘ اور اگر کسی وقت شیطان انہیں غافل کرکے ان سے کوئی گناہ کرا بھی دیتا تھا تو جلدی ہی وہ غفلت سے چونک پڑتے تھے اور پھر توبہ واستغفار اور دنیوی سزا کے ذریعہ گناہ کے ناپاک اثر کو جب تک دھونہ ڈالتے تھے‘ انہیں چین نہ آتا تھا‘ چاہے اس کے لئے انہیں اپنی جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھونے پڑیں۔ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کا آج جو یہ حال ہے کہ ان کی ساری زندگی اللہ سے غافل اور آخرت سے بے فکر ہوکر گذررہی ہے۔ صحابہٴ کرام اس کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے کہ ایمان واسلام کے دعوے کے ساتھ کوئی شخص ایسی زندگی بھی گذار سکتا ہے۔ بہرحال ان کی زندگی اللہ کے ذکر اور آخرت کی فکر کی زندگی تھی۔ قرآن مجید میں اسی زندگی کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے۔
”رجال لاتلہیہم تجارة ولابیع عن ذکر اللہ واقام الصلوٰة وایتاء الزکوٰة یخافون یوماً تتقلب فیہ القلوب والابصار“۔ (النور:۳۸)
یعنی وہ ہرحال میں ذاکر اور باخدا تھے‘ نماز کے وقت وہ نماز کے ذریعہ خدا کو یاد کرتے تھے‘ تجارت اور خرید فروخت اور اس طرح کے دوسرے معاملات میں وہ اللہ کے احکام کی پابندی کے ذریعہ اس کو یاد رکھتے تھے‘ مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر ان کا ذکر تھا‘ حاجتوں اور مشکلوں میں دعا اور استعانت اور خطا ہوجانے پر استغفار اور انابت اور سچی توبہ اور سزا کے لئے خود اپنے کو پیش کردینا ان کی عام سیرت تھی اور وہ قیامت کے اس آنے والے دن سے ڈرتے اور لرزتے رہتے تھے‘ جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔ الغرض ان کی پوری زندگی اللہ کے ذکر اور آخرت سے فکر کی زندگی تھی اور یہ صفت اس پوری جماعت کی صفت تھی‘ جس سے ان کا کوئی فرد خالی نہ تھا۔ پانچویں چیز جو صحابہٴ کرام میں اسی طرح عام تھی وہ ان کی سچی اسلامی اخوت اور باہمی محبت اور ہمدردی تھی۔ حضور ا کی تعلیم وتربیت نے گویا خود غرضی کا بیج ہی ان کے دلوں سے نکال دیا تھا۔ اس سلسلے میں دو واقعے ذکر کرنا چاہتاہوں۔ ایک جنگ میں ‘ غالباً یرموک کی جنگ میں ایک صاحب شریک تھے‘ ایک دن وہ میدانِ جنگ سے واپس نہیں آئے اور کسی سے ان کی خیر خبر بھی نہیں ملی تو ان کے ایک بھائی ان کی تلاش میں نکلے اور اس خیال سے کہ شاید وہ کہیں پیاس کی حالت میں پڑے ہوں‘ پانی کا ایک مشکیزہ بھی ساتھ لے لیا‘ اتفاق سے وہ ایک جگہ ایسی حالت میں پڑے ہوئے ملے کہ بس دم توڑ رہے تھے‘ اور جاں کنی کا وقت تھا‘ انہوں نے پوچھا کہ پانی دوں؟ انہوں نے اشارہ سے ہاں کی‘ یہ مشکیزہ سے پانی نکال ہی رہے تھے کہ قریب ہی سے کسی اور پڑے ہوئے زخمی کی کراہٹ کی آواز آئی‘ ان کے بھائی نے اشارہ سے کہا کہ: جس بھائی کی یہ آواز آرہی ہے‘ پہلے ان کو پانی دے کے آؤ‘ یہ پانی لے کے ان کے پاس پہنچے‘ ان کا بھی آخری دم تھا‘ انہوں نے ان کو پانی دینا چاہا‘ لیکن ابھی دینے نہ پائے تھے کہ قریب ہی سے کسی تیسرے زخمی کی ہچکی کی آواز آئی‘ ان دوسرے صاحب نے یہ آواز سن کر اشارہ کیا کہ پہلے ان کو پانی دو۔ چنانچہ یہ صاحب پانی لے کر ان تیسرے صاحب کے پاس پہنچے‘ لیکن اتنی ہی دیر میں وہ جاں بحق ہوچکے تھے‘ پھر جب یہ ان کے پاس سے لوٹ کر دوسرے صاحب کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ بھی ختم ہوگئے۔ پھر جب اپنے بھائی کے پاس آئے تو دیکھا وہ بھی اللہ سے واصل ہوچکے ہیں۔ دوسرا واقعہ جو میں اس سلسلے میں ذکر کرنا چاہتاہوں‘ وہ یہ ہے کہ ایک دفعہ کسی صحابی کے یہاں بکری ذبح ہوئی‘ انہوں نے اس کی سری اپنے کسی ساتھی کے یہاں ہدیہ کے طور پر بھیج دی‘ ان صاحب نے شکریہ کے ساتھ لے لی‘ لیکن بجائے اس کے کہ یہ خود کھانا پکا لیتے‘ اس کو کسی اور صاحب کی خدمت میں پیش کردیا‘ ان صاحب نے اس کو ایک اچھا تحفہ سمجھ کر کسی چوتھے صاحب کے گھر پہونچادیا۔ راوی کا بیان ہے کہ یہ سری اس طرح سات گھروں پھر کر پھر ہدیہ اور تحفہ کے طور پر اسی گھر واپس آئی‘ جہاں سے چلی تھی،ان دونوں واقعوں سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ ایثار اور ان کی ہمدردی وغمخواری صحابہ کرام کی عام مشترک صفت تھی‘ جس میں زید‘عمرو‘ بکر کی کوئی خصوصیت نہ تھی‘ بلکہ اس سوسائٹی میں ہرفرد کا یہی حال تھا کہ وہ دوسروں کے حق کو اور دوسروں کی ضرورت کو اپنے حق اور اپنی ضرورت پر مقدم سمجھتا تھا۔ چھٹی چیز جو صحابہ کرام میں اسی طرح عام تھی‘ وہ دین کی خدمت کا جذبہ اور اعلاء کلمة اللہ کے لئے جد وجہد اور قربانی کا شوق تھا‘ صحابہ کی پوری جماعت میں تلاش کرنے سے بھی آپ کو کوئی ایسا فرد نہ ملے گا جو اس چیز سے خالی ہو‘ حد یہ ہے کہ عورتوں اور بچوں کے سینے بھی اس جذبہ اور اس شوق سے بھرے ہوئے تھے‘ مائیں اور بہنیں اور بیویاں ایمانی ذوق وشوق کے ساتھ اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور شوہروں کو جہاد کے لئے رخصت کرتی تھیں۔ ایک بوڑھے صحابی تھے جن کے پاؤں میں لنگ بھی تھا اور آپ کو معلوم ہوگا کہ قرآن مجید میں لنگڑوں کو صراحةً جہاد سے معذور ومستثنیٰ قرار دیا گیا ہے‘ لیکن ایک جہاد کے موقع پر یہ صاحب بھی جانے پر مصر ہوئے‘ ان کے کئی جوان بیٹے تھے‘ انہوں نے ان کو روکنا چاہا اور کہا کہ: ہم جارہے ہیں اور آپ کو اللہ نے بھی مستثنیٰ کردیا ہے‘ اس لئے آپ نہ جائیں‘ بلکہ گھر ہی پر رہیں‘ یہ اس پر راضی نہ ہوئے اور بالآخر مقدمہ حضور ا کے سامنے پیش ہوا‘ آپ نے بیٹوں سے تویہ فرمایا کہ:جب یہ جانا ہی چاہتے ہیں تو تم انہیں کیوں روکتے ہو؟ انہیں شہادت کا شوق ہے تو جانے دو‘ اور بوڑھے اور لنگڑے باپ سے فرمایا کہ بھائی! جب اللہ نے تمہیں معذور قرار دے دیا ہے اور جہاد تم پر فرض نہیں ہے‘ اور اللہ کے دیئے تمہارے یہ جوان بیٹے موجود ہیں جو جارہے ہیں تو پھر تم نہ جاؤ تو کیا حرج ہے؟ ان بوڑھے صحابی نے عرض کیا: حضور! میرا جی چاہتاہے کہ میں اپنی اس لنگڑی ٹانگ کے ساتھ اللہ کی راہ میں لڑوں اور مارا جاؤں تو اس لنگ کے ساتھ خدا کے سامنے حاضر ہوں اور اسی لنگڑی ٹانگ سے جنت میں جاؤں۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں صحابی بچوں کے بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ چھپ چھپ کر اسلامی لشکروں کے ساتھ میدان جہاد میں جاتے تھے اور دینی جد وجہد کی راہ میں خاک وخون میں تڑپنا ان کا سب سے زیادہ مرغوب کھیل تھا۔ صحابہٴ کرام کی پوری جماعت میں دین کی خدمت کا جذبہ اور اس کی راہ میں قربانی کا شوق جس قدر عام تھا‘ اس کا کسی قدر اندازہ آپ اس طرح کرسکتے ہیں کہ صحابہ کے تذکرہ میں جو بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں‘ مثلاً :استیعاب‘ اسد الغابہ‘ اصابہ آپ ایک طرف سے ان میں سے کسی کو دیکھنا شروع کیجئے اور صرف یہ دیکھتے جایئے کہ یہ صحابی کہاں پیدا ہوئے‘ اسلام لانے کے بعد ان کی زندگی کہاں کہاں اور کن کن مشاغل میں گذری اور کہاں یہ دفن ہیں۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ آپ کو ان کتابوں میں اکثر صحابہ کے متعلق‘ بلکہ قریب قریب سب کے متعلق یہی ملے گا کہ یہ صاحب فلاں جگہ پیدا ہوئے تھے‘ اسلام لانے کے بعد زندگی کا اصل مشغلہ دین کی خدمت رہا‘ فلاں جنگ میں شہید ہوئے‘ یا دین کے فلاں شعبہ کی خدمت کرتے ہوئے فلاں شہر میں ان کی وفات ہوئی اور فلاں جگہ مدفون ہیں، اگر آپ اس نظر سے صحابہ کرام کے تذکروں کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ مکہ اور مدینہ میں پیدا ہونے والے صحابیوں میں بہت تھوڑے ہیں جومکہ میں یا مدینہ میں‘ یعنی اپنے اصل وطن میں دفن ہوئے ہیں‘ ورنہ اکثر وہی ہیں جن کا گھر اگر چہ مکہ یا مدینہ تھا‘ لیکن دین کی خدمت اور دین کی جد وجہد کے سلسلہ میں دوسرے ملکوں کی خاک میں دفن ہیں۔ صحابہ کرام کی بہت بڑی تعداد کا اپنے وطنوں سے دور ملکوں اور شہروں میں دفن ہونا‘ حالانکہ وہ آج کل کے فوجیوں کی طرح کسی حکومت کے تنخواہ دار نوکر نہ تھے‘ بلکہ اپنے جذبہ سے اور صرف دین کی خدمت اور اعلاء کلمة اللہ کو اپنا دینی فرض سمجھ کر محض رضا کارانہ طور پر وہ یہ سب کچھ کرتے تھے‘ تو یہ اس کی بڑی دلیل ہے کہ یہ صفت بھی ان میں ایمان اور خوفِ خدا کی طرح ہی عام تھی․․․․ آپ نے سنا ہوگا کہ ایک جنگ کے موقع پر حضرت خالد بن ولید  نے رومی فوجوں کے سپہ سالار کو اپنے خط میں لکھا تھا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ میرے ساتھ اللہ کے جو بندے اور اسلام کے جو سپاہی ہیں‘وہ دین کی راہ میں جان دینے اور اللہ کے لئے خاک وخون میں تڑپنے کے ایسے ہی عاشق ہیں جیسے رومی لوگ شراب کے عاشق ہوتے ہیں۔ درحقیقت حضرت خالد کے خط کا یہ ایک جملہ (جس کو تاریخ نے اب تک محفوظ رکھا ہے) صحابہ کرام کی اس عمومی صفت کا اندازہ کرنے کے لئے بالکل کافی ہے۔ الغرض صحابہٴ کرام میں جس طرح حقیقی اور شعوری ایمان عام تھا‘ جس طرح دین کا ضروری علم اور اس کے مطابق عمل عام تھا‘ جس طرح خدا کا خوف اور آخرت کی فکر عام تھی اور جس طرح باہمی محبت وہمدردی کی صفت عام تھی‘ اسی طرح دین کی خدمت اور دین کے لئے جد وجہد اور اس راہ میں فدا کاری وقربانی کا شوق بھی عام تھا۔ اس دور میں جو مومن ومسلم تھا‘ وہ دین کا خادم اور دین کی راہ میں جد وجہد کرنے والا بھی تھا۔

Jadeed Nasal ki Bechaini aur Zahni Karb k Asbab

جدید نسل کی بے چینی اورذہنی کرب کے اسباب


علم‘ دین کا ہو یا دنیا کے کسی شعبے کا‘ وہ بہرحال انسانیت کے لئے تمغہٴ فضیلت اور طرہٴ امتیاز ہے اور تعلیم کا مقصد فضل وکمال سے آراستہ ہونا اور میراثِ انسانیت کا حاصل کرنا ہے‘ موضوع کے لحاظ سے علم کی دو قسمیں قرار پاتی ہیں:۱:․․․ دینی علوم اور ۲:․․․․ دنیاوی علوم ۔ دینی علوم کے اصل ثمرات وبرکات تو آخرت ہی میں ظاہر ہوں گے‘تاہم جب تک دنیا میں اسلام کی عزت ورفعت کا دور دورہ رہا‘ دنیا میں بھی اس کی منفعتیں ظاہر ہوتی تھیں‘ علمائے دین‘ قاضی‘ قاضی القضاة‘ مفتی اور شیخ الاسلام کی حیثیت سے محاکمِ عدلیہ اور محاکمِ احتساب کے مناصب پر فائز ہوتے تھے‘ ملک وملت کے لئے ان کا وجود سایہٴ رحمت سے کم نہیں تھا‘ ان کی خدا ترسی‘ حق پسندی اور عدل پروری کی بدولت معاشرہ میں امن وعافیت کی فضا قائم تھی اور اسلام کے عادلانہ احکام کا نفاذ بہت سے معاشرتی امراض سے حفاظت کا ضامن تھا۔ الغرض دینی مناصب کے لئے علمائے دین ہی کا انتخاب وتقرر ہوتا تھا اور آج بھی جن ممالک میں اسلامی نظام کسی حد تک رائج ہے‘ اس کے کچھ نمونے موجود ہیں اور دنیوی علوم جن کا تعلق براہِ راست دنیا کے نظام سے تھا‘ مثلاً فلسفہ‘ منطق‘ تاریخ‘ جغرافیہ ریاضی‘ ہیئت‘ حساب‘ طب وجراحت وغیرہ ان کے لئے تو حکومتی مناصب بیشمار تھے۔ علوم کی یہ تقسیم کہ کچھ علوم دینی ہیں اور کچھ دنیاوی‘ محض موضوع کے لحاظ سے ہے‘ مگر اس کے معنی دین ودنیا کی تفریق کے ہرگز نہیں‘ چنانچہ دنیوی علوم اگر بے ہودہ اور لایعنی نہ ہوں اور انہیں خدمتِ خلق‘ اصلاحِ معاش اور تدبیر سلطنت کی نیت سے حاصل کیا جائے تو وہ بھی بالواسطہ رضائے الٰہی کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور دین ودنیا کی تفریق ختم ہوجاتی ہے اور اس کے برعکس جب دینی علوم کی تحصیل کا مقصد محض دنیا کمانا ہو تو یہ علوم بھی بالواسطہ دنیا کے علوم کی صف میں آجاتے ہیں اور اس کے لئے احادیثِ نبویہ میں سخت سے سخت وعیدیں بھی آئی ہیں‘ مثلاً ایک حدیث میں ہے:
”من تعلم علماً مما یبتغیٰ بہ وجہ اللہ لایتعلمہ الا لیصیب بہ عرضاً من الدنیا لم یجد عرف الجنة یوم القیامة‘ یعنی ریحہا“۔ (مشکوٰة شریف:۳۴)
ترجمہ:․․․”جس شخص نے وہ علم سیکھا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل ہوسکتی ہے اور پھر اس کو متاعِ دنیا کا ذریعہ بنایا تو ایسا شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہے گا“۔
ایک اور حدیث میں ہے:
”من طلب العلم لیجاری بہ العلماء او لیماری بہ السفہاء او یصرف بہ وجوہ الناس الیہ ادخلہ اللہ النار“۔ (مشکوٰة شریف:۳۴)
ترجمہ:․․․”جس شخص نے اس غرض سے علم حاصل کیا کہ اس کے ذریعہ علماء سے مقابلہ کرے یا کم عقلوں سے بحث کرے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف مائل کرے‘ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو آگ میں ڈالیں گے“۔
بہرحال ایک مقام ایسا بھی آتاہے کہ دینی علوم بھی دنیا کے علوم بن جاتے ہیں اور دنیوی علوم بھی رضائے الٰہی اور طلبِ آخرت کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور دین ودنیا کی تفریق ختم ہوجاتی ہے‘ گویا اصل مدار مقاصد ونیات پر ہے کہ اگر مقصد رضائے الٰہی ہے تو دنیوی علم بھی دین کے معاون ومددگار‘ اور صنعت وحرفت کے تمام شعبے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے وسائل بن جاتے ہیں۔ علوم خواہ قدیم ہوں یا جدید اور دینی ہوں یا دنیوی ان سب سے مقصد رضائے الٰہی کے مطابق ایک صالح معاشرہ کا قیام ہونا چاہئے اور یہ مقصد اسی صورت میں حاصل کیا جاسکتاہے کہ جو شخص جس شعبہٴ زندگی سے منسلک ہو‘ وہ اس شعبہ سے متعلق بقدر ضرورت دینی مسائل سے بھی واقف ہو‘ مسلمان تاجر ہو تو تجارت سے متعلقہ دینی مسائل کا عالم ہو‘ انجینئر ہو تو عالم ہو‘ طبیب اور ڈاکٹر ہو تو عالم ہو ‘ حضرت فاروق اعظم  کے عہد میں جوخلافتِ راشدہ کا تابناک دور ہے‘ ایک قانون یہ تھا:
”لایبع فی سوقنا ہذا من لم یتفقہ فی الدین“۔
ترجمہ:․․․”جو شخص فقیہ (دینی مسائل کا ماہر) نہ ہو اس کو ہمارے بازار میں خرید وفروخت کی اجازت نہیں“۔ گویا دنیا کمانے کے لئے بھی علمِ دین کی ضرورت ہے‘ تاکہ حلال وحرام اور جائز وناجائز کی تمیز ہو سکے اور خالص سود‘ سودی کاروبار اور غیر شرعی معاملات میں مبتلا نہ ہو۔ الغرض ایک دور ایسا تھا کہ ہرہنر وکمال کا مقصد آخرت اور رضائے الٰہی تھا اور اب ایک دور ایسا آگیا ہے کہ ہرچیز کا مقصد دنیا ہی دنیا بن کر رہ گیا‘ بلکہ اب تو اس میں بھی اس قدر تنزل رونما ہوا ہے کہ دنیا کی بھی تمام حیثیتیں ختم ہوکررہ گئیں‘ اب تو واحد مقصد صرف ”پیٹ“ رہ گیا ہے‘ دنیا کے ہرعلم وہنر اور فضل وکمال کا منتہائے مقصود بس یہ سمجھا جاتاہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ جہنم بھر جائے۔
جدید تعلیم اور اس کا مقصد
قدیم اصطلاح میں تو دینی علم ہی علم کہلانے کا مستحق تھا‘ دنیاوی علوم کو فنون یا ہنر سے تعبیر کیا جاتا تھا‘ مگر آج کی اصطلاح یہ ہوگئی ہے کہ قدیم علوم کے ماہر کو عالم کہا جاتاہے اور جدید علوم کے ماہرین کو ”تعلیم یافتہ“ کے خطاب سے یاد کیا جاتاہے‘ امریکہ اور یورپ وغیرہ کے جو ممالک جدید علوم کے امام ہیں‘ وہاں آج بھی کسی ”تعلیم یافتہ“ کے لئے ضروری نہیں کہ وہ کسی اسکول میں ٹیچر‘ کسی کالج میں پروفیسر یا سرکاری دفتر میں ملازم ہو‘ بلکہ وہاں تعلیم کا مقصد ہنر وکمال کی تحصیل سمجھا جاتاہے‘ تاکہ ہر شعبہٴ حیات میں ہنر وکمال کے مالک افراد موجود ہوں‘ ان ممالک میں ٹیکسی ڈرائیور اور بسوں کے کنڈیکٹر بھی گریجویٹ ہوتے ہیں‘ یہ کہیں بھی نہیں سمجھا جاتا کہ بی اے یا ایم اے ہونے کے بعد دکان پر بیٹھنا یا کارخانے میں جانا یا ڈرائیور بننا باعثِ توہین ہے‘ پھر نہ معلوم ہمارے ملک میں یہ کیوں ضروری سمجھ لیا گیا ہے کہ جو شخص تعلیم یافتہ یا گریجویٹ ہو‘ اس کے لئے سرکاری ملازمت لازم ہے۔ ورنہ اس کی حق تلفی اور اس کی ڈگری کی توہین متصور ہوگی۔ برطانوی دور میں اس جدید تعلیم کا مقصد بلاشبہ یہی سمجھایا گیا تھا کہ اسکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تیار ہونے والے افراد سرکاری مشینری کے کل پرزے بنیں گے‘ کیونکہ اس اجنبی ملک میں حکومت کی انتظامی ضرورت پوری کرنے کے لئے ان کو ایک ایسی نسل کی ضرورت تھی جس سے ان کی حکومت کا کاروبار چل سکے‘ وہ انگلستان سے اتنے انگریز یہاں نہیں لاسکتے تھے کہ اتنے بڑے برّکوچک کا تمام کام سنبھال سکیں‘ انہیں دنیا کے دوسرے ممالک پر بھی حکمرانی کرنی تھی‘ کلیدی مناصب تو ضرور وہ اپنوں ہی کو دیا کرتے تھے یا پھر ان کو جو سو فیصد ان کے حاشیہ بردار بن جائیں‘ مگر نیچے درجہ کے لئے انہیں یہیں سے آدمی مہیا کرنے تھے‘ علاوہ ازیں اس جدید تعلیم سے انگریز کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانی لوگ انگریزی تہذیب وتمدن کے اتنے دلداہ ہوجائیں کہ ظاہر وباطن میں انگریز ہی انگریز نظر آئیں اور لارڈ میکالے کی پیش گوئی پوری ہوجائے ۔ الغرض یہ ذہنیت انگریزی دور کی پیداوار ہے کہ تعلیم حاصل کرنا صرف ملازمت کے لئے ہے‘ ظاہر ہے کہ تعلیم کی رفتار میں ہرسال تیزی سے اضافہ ہورہاہے اور سرکاری مناصب اور ملازمتیں محدود ہیں‘ تعلیمی تناسب سے ان میں اضافے کا امکان نہیں‘ نہ یہ ممکن ہے کہ تمام تعلیم یافتہ افراد کو سرکاری ملازمتوں میں کھپایا جاسکے اور یہ تو طلبہ کا مسئلہ تھا‘ اس پر مستزاد یہ کہ طالبات بھی اب تعلیم کے میدان میں اسی تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہیں اور وہ بھی ملازمت کی خواہاں ہیں‘ جب نئی نسل کو مستقبل تاریک نظر آتاہے تو ان میں بے چینی پھیلتی ہے اور اس کا نتیجہ اس عبرت ناک منظر کی صورت میں ظاہر ہوتاہے جو گذشتہ دنوں کراچی یونیورسٹی میں تقسیم اسناد کے موقعہ پر دیکھنے میں آیا کہ گورنر تک کے لئے آبرو بچانا مشکل ہوگیا‘ یہ ہیں جدید تعلیم کی برکات اور یہ ہیں جدید تعلیم یافتہ حضرات ”ان فی ذلک لعبرة لاولی الابصار“ یہ صورتِ حال تمام اہلِ دانش اور اربابِ اقتدار کے لئے لمحہ فکریہ ہے‘ اگر جدید نسل کے اس ذہنی کرب کا صحیح حل تلاش نہ کیا گیا تو اس کے نتائج اس سے زیادہ ہولناک ہوں گے۔
جدید نسل کی بے چینی اور ذہنی کرب کے اسباب
ہمارے نزدیک کرب وبے چینی کے متعدد اسباب ہیں‘ سب سے اہم تو یہ ہے کہ جدید تعلیمی اداروں میں دینی ماحول‘ دینی تربیت اور دینی ذہن وفکر کی ضرورت کو کبھی محسوس نہیں کیا گیا‘ بلکہ اس کے برعکس نئی نسل کو دین سے بیزار کرنے کے تمام اسباب وسائل مہیا کئے گئے‘ دین کو ”ملائیت“ کا نام دے کر نوخیز ذہنوں کو اس سے نفرت دلائی گئی‘ علمائے دین کے لئے طرح طرح کے القاب تجویز کرکے انہیں ”تعلیم یافتہ“ طبقہ کی نظر میں گرانے کی ہرممکن کوشش کی گئی ‘ ذرائع نشر واشاعت کو تمام حدود وقیود سے آزاد کرکے انہیں بددینی کا مبلغ بنادیا گیا‘ اس پر مستزاد یہ کہ لادینی نظریات کا پر چار کرنے کے لئے مستقل ادارے قائم ہوئے اور سرکاری طور پر ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی گئی‘ اب خود سوچئے کہ جس نو خیز نسل کے سامنے گھر کا پورا ماحول بے دین ہو‘ تعلیم گاہوں میں دینی ماحول کا فقدان ہو‘ گلی کوچوں سڑکوں اور بازاروں سے بے دینی کا غلیظ اور مسموم دھواں اٹھ رہا ہو‘ زندگی کے ایک ایک شعبہ سے دین کو کھرچ کھرچ کر صاف کردیا گیا ہو‘ والدین سے اساتذہ تک اور صدر سے چپراسی تک نئی نسل کے سامنے دینداری‘ خداترسی اور خوف آخرت کا کوئی نمونہ سرے سے موجود نہ ہو اور جس ملک میں قدم قدم پر فواحش ومنکرات ‘ بے حیائی وبداخلاقی اور درندگی وشیطنت کا سامان موجود ہو کیا آپ وہاں کی نئی نسل سے دینداری شرافت اور انسانی قدروں کے احترام کی توقع کرسکتے ہیں؟ جس نسل کا خمیر تخریب سے اٹھایا گیا ہو کیا وہ کوئی تعمیری کارنامہ انجام دے سکتی ہے؟ جو خود معاشرہ کے عمومی بگاڑ کی پیداوار ہو‘کیا وہ کسی درجہ میں بھی معاشرہ کی اصلاح کے لئے مفید اور کار آمد ہو سکتا ہے؟ تم لاکھ تعلیمی ترقی اور اعلیٰ تہذیب کے ڈھنڈورے پیٹو‘ لیکن خوب یاد رکھو‘ تعلیم کا ماحول جب تک دینی نہیں ہوگا‘ نئی نسل کے سامنے والدین‘ اساتذہ اور اہم شخصیتوں کی شکل میں اخلاق وانسانیت اور دینداری وخدا خوفی کے اعلیٰ نمونے جب تک موجود نہیں ہوں گے‘ تعلیم میں جب تک دینی تربیت مطمح نظر نہیں ہوگی اور جب تک اخلاق واعمال ‘ جذبات وعواطف اور رجحانات ومیلانات کی اصلاح نہیں ہوگی‘ تب تک یہ مصیبت روز افزوں ہوتی جائے گی‘ تعلیم سے جب اسلامی روح نکل جائے‘ اخلاق تباہ ہوجائیں‘ انسانی قدریں پامال ہوجائیں اور مقصد زندگی صرف حیوانیت اور شکم پروری رہ جائے تو اس تعلیم کے یہ دردناک نتائج ظاہر نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوگا؟ صدحیف! کہ آج انسانیت کی پوری مشین ”پیٹ“ کے گرد گھومنے لگی ہے‘ آج کی تمام تعلیم‘ تمام تربیت اور تمام تہذیب کا خلاصہ یہ ہے کہ حیوانی زندگی کے تقاضے کیسے پورے کئے جائیں‘ دین جاتاہے تو جائے‘ اخلاق مٹتے ہیں تو مٹیں‘ انسانیت پامال ہوتی ہے تو ہومگر ہمارے حیوانی تقاضے اور نفسانی خواہشات بہرحال پوری ہونی چاہئیں‘ نہ دین سے تعلق ‘ نہ اخلاق سے واسطہ‘ نہ انسانیت کا شعور‘ نہ افکار صحیح‘ نہ خیالات درست‘ نہ خدا کا خوف ‘ نہ آخرت کی فکر‘ نہ مخلوق سے حیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون․
جدید تعلیم اور اس کے چند مہلک ثمرات
اسی جدید تعلیم اور اس کے لادینی نظام نے لسانی عصبیت اور صوبہ پرستی کی لعنت کو جنم دیا‘ جس کی وجہ سے مشرقی بازوکٹ گیا اور اب کراچی اور سندھ میں بھی شب وروز اس کے دردناک مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں‘ نہ معلوم اس بدنصیب قوم کا انجام کیا ہوگا‘ انسانی اقدار اور احترامِ انسانیت کا شعور پیدا کرنے کے لئے دین ومذہب کے سوا کوئی چارہ نہیں‘ ہم بارہا ان صفحات میں صاف صاف کہہ چکے ہیں کہ آخرت کی نجات اور دنیا کی سعادت صرف اسلامی تعلیمات اور اسلامی ہدایات واحکامات میں مضمر ہے‘ اس کے سوا خسارہ ہی خسارہ ہے‘ تعلیم کا مقصد روح کی بالیدگی‘ نفس کی پاکیزگی‘ سیرت وکردار کی بلندی اور ظاہر وباطن کی طہارت ونظافت ہونا چاہئے اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ اس تعلیمی قالب میں دینی روح بطور مقصد جلوہ گرہو اور جب تم اپنے وسائل کی پوری قوت سے دین کو ختم کررہے ہو اور دین کا مضحکہ اڑا کر اسے رسوا کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہو تو اس کے بدترین نتائج کے لئے بھی تیار ہو:
”خرمانتواں یافت ازاں خار کہ کشتیم“
نئی نسل کے اضطراب کا بڑا اور اہم سبب
نئی نسل کے کرب واضطراب کا ایک بڑا سبب صنفِ نازک کے بارے میں غلط روی پر مسلسل اصرار ہے‘ اسلام نے عورت کو عزت واحترام کا جو مقام بخشا ہے‘ وہ نہ کسی قدیم تہذیب میں اسے حاصل ہوا تھا‘ نہ جدید ترقی یافتہ تہذیب کو اس کی ہوالگی ہے۔ اسلام نے اس کے تمام حقوق دلوائے‘ اسے ماں‘ بہن اور بیٹی کے نہایت قابلِ احترام القاب سے سرفراز کیا‘ مرد وعورت کے درمیان نہایت مقدس ازدواجی رشتہ قائم کرکے دونوں کی زندگی کو سراپا امن وسکون بنانے کی ضمانت دی‘ عورت کے تمام حقوق ونفقات کا بوجھ مرد کے ذمہ ڈالا‘ اس کو گھر کی ملکہ بناکر گھر کا سارا نظم ونسق اس کے سپرد کیا‘ اولاد کے بہترین اتالیق کی حیثیت سے اسے پیش کیا‘ مرد وزن کے الگ الگ دائرہ کار کی حد بندی کی‘ دونوں کے لئے ایسے عادلانہ احکام وضع فرمائے کہ یہ رشتہ نفسیاتی طور پر محبت وخلوص کا مجسمہ بن جائے ‘ گھر کے انتظامی معاملات عورت کے سپرد کرکے مرد کو گھر کی فکر سے یکسو کردیا اور باہر کی تمام ضروریات کا بار مرد پر ڈال کرعورت کو فکرِ معاش سے آزاد کردیا‘ تاکہ دونوں جانب سے احسان مندی اور قدرشناسی کے جذبات پروان چڑھیں۔
ایک پُر فریب نعرہ ”آزادئ نسواں“
مگر جدید تہذیب نے ان تمام مصالح واسرار کو غارت کرکے ”آزادئ نسواں“ کا ایک پُر فریب نعرہ ایجاد کیا اور صنفِ نازک کو گھر کی سلطنت سے باہر نکال کر گلی کوچوں میں رسوا کیا اور زندگی کی پرخاروادیوں میں اسے مردوں کے دوش بدوش چلنے پر مجبور کیا‘ جو فرائض مردوں کے ذمہ تھے‘ ان کا بوجھ بھی عورتوں پر ڈالا‘ اس کے بعد ”تعلیم نسواں“ کے فسونِ ساحری نے عورت کو جدید تعلیم اور جدید تہذیب کے قالب میں ڈھالا اور اب عورتوں کے لئے اعلیٰ تعلیم ایک فیشن بن گیا‘ ڈگری حاصل کرنے کے بعد اب ضرورت ہے کہ ملازمتوں میں انہیں بھی برابر کا حصہ دیا جائے‘ پہلے مردوں کے لئے ملازمت کی جگہ کا سوال تھا‘ اب عورتوں کے لئے ملازمت کا اس پر مزید اضافہ ہوگیا،ہمیں خوب معلوم ہے کہ جدید طبقہ کس ذہن سے سوچنے کا عادی ہو چکا ہے‘ اس لئے ہمیں توقع نہیں کہ اس گردابِ بلا میں پھنس جانے کے باوجود وہ کسی ناصح مشفق کی بات سننا گوارا کرے گا‘ تاہم ہمیں یہ کہنے میں باک نہیں کہ جدید تہذیب نے عورت سے بدترین مذاق کرکے شرفِ انسانیت کو بٹہ لگادیا ہے۔
پردہ عورت کا فطری حق ہے
پردہ عورت کا فطری حق ہے‘ عورت گھر میں ہو یا بازار میں‘ کالج میں ہو یا یونیورسٹی میں یا دفتر اور عدالت میں ہو‘ وہ اپنی فطرت کو تبدیل کرنے سے قاصر ہے۔ وہ جہاں ہو گی اس کے ضمیر کی خلش اور فطرت کی آواز اسے پردہ کرنے پر مجبور کرے گی‘ وہ بے دین قومیں جو عورت کی فطرت سے اندھی اور خالقِ فطرت کے احکام سے نا آشنا ہیں‘ وہ اگر عورت کی پردہ دری کے جرم کا ارتکاب کریں تو جائے تعجب نہیں‘ مگر ایک مسلمان جس کے سامنے خدا ورسول کے احکام اور اس کے اکابر کا شاندار ماضی موجود ہو‘ اس کا اپنی بہوو بیٹیوں کو پردے سے باہر لے آنا مردہ ضمیری کا قبیح ترین مظاہرہ ہے‘ عورت کی ساخت وپرداخت اس کی عادات واطوار اور اس کی گفتار ورفتار پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ وہ عورت (مستور) ہے‘ اسے ستر (پردہ) سے باہر لانا اس پر بدترین ظلم ہے۔ ستم ظریفی کی حد ہے کہ وہ عورت جو عصمت وتقدس کا نشان تھی اور جس کی عفت ونزاہت سے چاند شرماتا تھا‘ اسے پردہ سے باہر لاکر اس سے ناپاک نظروں کی تسکین اور نجس قلوب کی تفریح کا کام لیا گیا‘ جدید تہذیب میں عورت زینتِ خانہ نہیں‘ شمعِ محفل ہے‘ اس کی محبت وخلوص کی ہر ادا اپنے شوہر اور بال بچوں کے لئے وقف نہیں‘ بلکہ اس کی رعنائی وزیبائی وقف تماشائے عالم ہے‘ وہ تقدس کا نشان نہیں کہ اس کے احترام میں غیر محرم نظریں فوراً نیچے جھک جائیں‘ بلکہ وہ بازاروں کی رونق ہے‘ آج دو پیسے کی چیز بھی عورت کی تصویر کے بغیر فروخت نہیں ہوتی‘ اس سے زیادہ نسوانیت کی ہتک اور کیا ہوسکتی ہے؟ کیا اسلام نے عورت کو یہی مقام بخشا تھا؟ کیا جدید تہذیب نے عورت پر یہی احسان کیا؟ کیا یہی آزادئ نسواں ہے جس کے لئے گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگائے جاتے تھے؟ اسلام کی نظر میں عورت ایک ایسا پھول ہے جو غیر محرم نظر کی گرم ہوا سے فوراً مرجھا جاتاہے‘ اسے پردہ سے باہر لانا اس کی فطرت کی توہین ہے۔ ادھر عورتیں پردے سے باہر آئیں‘ ادھر انہیں زندگی کی گاڑی میں جوت دیا گیا ‘ تجارت کریں تو عورتیں ‘ وکالت کریں تو عورتیں‘ صحافت کے شعبہ میں جائیں تو عورتیں‘ عدالت کی کرسی پر متمکن ہوں تو عورتیں‘ اسمبلی میں جائیں تو عورتیں‘ الغرض کاروباری زندگی کا وہ کون سا بوجھ تھا جو مظلوم عورت کے نازک کاندھوں پر نہیں ڈال دیا گیا‘ سوال یہ ہے کہ جب یہ تمام فرائض عورتوں کے ذمہ آئے تو مرد کس مرض کی دوا ہیں؟ اسلام نے نان ونفقہ کی تمام ذمہ داری مرد پر ڈالی تھی‘ لیکن بزدل مغرب نے ”مردوں کے دوش بدوش چلنے“ کا جھانسہ دے کر یہ سارا بوجھ اٹھا کر عورت کے سر پر رکھ دیا‘ جدید تہذیب کے نقیبوں سے کوئی پوچھنے والانہیں کہ یہ عورت پر احسان ہوا یا بدترین ظلم؟ عورت گھر کے فرائض بھی انجام دے‘ بال بچوں کی پرورش کا ذمہ بھی لے‘ مرد کی خدمت بھی بجا لائے اور اسی کے ساتھ کسبِ معاش کی چکی میں بھی پسا کرے؟ ظاہر ہے کہ عورت کے فطری قویٰ اتنے بوجھ کے متحمل نہیں ہوسکتے‘ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گھر کا کاروبار نوکروں کے سپرد کرنا پڑا‘ بچوں کی تربیت وپرداخت ماماؤں کے حوالے کی گئی‘روٹی ہوٹل سے منگوائی گئی‘ گھر کا سارا نظام توابتر ہوا ہی‘ باہر کے فرائض پھر بھی عورت یکسوئی سے ادا نہ کر پائی‘ نہ وہ کرسکتی ہے،پھر مرد وزن کے اختلاط اور آلودہ نظروں کی آوارگی نے معاشرہ میں جو طوفان برپا کیا‘ اس کے بیان سے زبانِ قلم کو حیا آتی ہے‘ یہ ہے آزادئ نسواں اور تعلیم ِ نسواں کا پُر فریب افسوس‘ جس نے انسانیت کو تہ وبالا اور معاشرے کو کرب واضطراب میں مبتلا کردیا۔
اسلام کی نظر میں جائز پیشے ذلت کے موجب نہیں
اس کرب وہیجان کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ عام طور سے صنعت وحرفت اور دستکاری سے عار نوجوانوں کے مزاج میں داخل ہوگیا‘ گویا جب تک کوئی اچھی ملازمت یا کوئی بڑے پیمانے کا کاروبار نہ میسر ہو‘ اس وقت تک کسی کام کا شروع کرنا ”بابوانہ“ شان کے خلاف سمجھا گیا اور یہ بے جا تکبر بیروزگاری‘ زبوں حالی اور ذہنی انتشار پر منتج ہوا‘ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ حلال پیشے کو حقیر سمجھنا نہایت پست ذہنی کی علامت ہے‘ اسلامی نقطہٴ نظر سے کوئی جائز اور حلال پیشہ تحقیر وتذلیل کا مستحق نہیں‘ حدیث میں ہے:
”ما اکل احد طعاماً قط خیراً من ان یأکل من عمل یدیہ‘ وان نبیّ اللہ داؤد علیہ السلام کان یأکل من عمل یدیہ“۔ (بخاری‘بحوالہ مشکوٰة‘ص:۲۴۱)
ترجمہ:․․․”کسی شخص نے کبھی کوئی کھانا نہیں کھایا جو اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر ہو اور اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام (باوجود عظیم سلطنت کے) اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے“۔
ایک اور حدیث میں آتاہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نجار (بڑھئ) تھے‘ الغرض ایک طرف تو حرفت ودستکاری کو حقیر جانا گیا اور دوسری طرف کسی صحیح منصوبہ بندی کے ذریعہ نوجوانوں کے لئے روزگار مہیا کرنے کی نئی صورتوں پر توجہ نہیں دی گئی‘ نتیجةً بیکاری وبیروزگاری کا سیلاب امڈ آیا اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کا مسئلہ پورے معاشرے کے لئے وبال بن گیا۔
تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کے مسائل کا حل
اگر ہم اس مکروہ اور تکلیف دہ صورتِ حال سے نجات حاصل کرنا ٰچاہتے ہیں تو اس کے لئے:
اولاً: اوپر سے نیچے تک پورے معاشرے کی اور بالخصوص نئی نسل کی دینی تعلیم وتربیت کا انتظام کرنا ہوگا‘ اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں خالص دینی ماحول بنایاجائے‘ امتِ مسلمہ کا رشتہ مسجد سے قائم کیا جائے اور انہیں تبلیغی مراکز میں جوڑا جائے۔
ثانیاً: غیر اسلامی نظریات کی تلقین وتبلیغ کا سلسلہ یک لخت بند کرنا ہوگا‘ جس قوم کے پاس محمد ا کا لایا ہوا پیغامِ حیات موجود ہو اور وہ اس کے مسائل کو حل نہ کر سکے تو خدا اس قوم کے کسی مسئلہ کو کبھی حل نہ کرے۔ ہمارے اربابِ اقتدار واختیار کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ محمد ا کے دامن کو چھوڑ کر لینن وماؤ سے راہنمائی حاصل کرنے کا نتیجہ ذلت ورسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوگا:
”ضربت علیہم الذلة والمسکنة وباء وا بغضب من اللہ“۔
ثالثاً: خواتین کی بے پردگی‘ عریانی اور سرِ بازار رسوائی کا انسداد کرنا ہوگا‘ عورتوں کی بقدرِ ضرورت تعلیم پردہ میں ہو اور باہر کی تمام ذمہ داریوں سے انہیں سبکدوش کیا جائے اور اگر کوئی ایسی صورت ہو کہ کسی خاتون کا کوئی معاشی کفیل نہیں تو اول تو قوم اور قومی خزانہ کا فرض ہے کہ ان کی معاشی کفالت اپنے ذمہ لے اور اگر قوم کی بے حسی اور حکام کی غفلت اس سے مانع ہو تو ان کے لئے باپردہ گھر یلو صنعتوں کا انتظام کیا جائے‘ جس سے وہ اپنی معاش حاصل کرسکیں۔ الغرض معاشی بوجھ صرف مردوں کو اٹھانا چاہئے اور اگر شاذو نادر یہ ذمہ داری عورتوں پر آئے تو ان کے لئے باپردہ انتظام کیا جائے‘ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر صرف عورتوں کا مسئلہ حل ہوجائے تو آدھا انتشار اسی وقت ختم ہوجائے گا۔
رابعاً: اس ذہنیت کو ترک کرنا ہوگا کہ تعلیم صرف ملازمت کے لئے ہے اور یہ کہ فلاں پیشہ حقیر ہے‘ بلکہ صحیح منصوبہ بندی کے ذریعہ نئی نسل کی افرادی قوت کو مفید کاموں میں لگانا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ صحیح فہم نصیب فرمائے۔

Sunday, June 13, 2010

JOURNEY TO THE MOON



JOURNEY TO THE MOON

18- And the Moon when it is full 
19- You will surely ride from stage to stage 
20- So, why do they not believe?
 
84-The Splitting, 18-20 

The moon is associated in our minds with beautiful scenes and romantic landscapes. For those who use the lunar calendar, it is a precision calculator. The ebb and tide it causes have always been a mystery for men. It is used to symbolize mathematics, astronomy, art and romanticism. 

Throughout history the moon has been the symbol of the unattainable. All these features also existed at the time of the Prophet. 

For 1400 years the meaning of the above quoted verses remained unraveled. In the Quran, the conjunction “and” (wa) is frequently used to stress a point; sometimes it is rendered in English by the preposition “by” when making serious promises, taking an oath or calling someone to witness. Commentators dealt differently with the “ride from stage to stage.” The reason was the inaccessibility of the moon at the time. Going to the moon was beyond imagination. 


This “riding from stage to stage” had the association for some of spiritual ascension, symbolizing the passage from this world to the other world, the stages of development of man from an embryo to adolescence and senescence. Yet, the verse foresees that human beings will pass from stage to stage in the future. Spiritual ascension and man’s biological development were nothing new. Therefore, I am of the opinion that these interpretations of the past do not reflect reality. The context of the verse connotes the anticipation that a particular phenomenon will take place in the future and the verse questions the reason why the people do not believe when this event takes place. The Arabic word “tabaq” (stage) also mentioned in the sura 67, 3rd verse, and the sura 71, 15th verse, refers not to spiritual, but concrete things. The use of the word “ride” clearly connotes a journey. 

Having thus explained the 19th verse in this fashion, the thing that our attention is drawn to, the moon in the 18th verse, supports the idea that “riding from stage to stage” is done by means of a shuttle from the earth to the moon. 

WHY DO THEY NOT BELIEVE?

The Russian spacecraft Luna 2 was the first probe to hit the moon (September 12, 1959), and Luna 3 took the first photographs of the far side of the moon. But the most important event was the landing on the moon on July, 21, 1969 by Neil Armstrong and his companions aboard the Apollo 11. The scene of landing on the blurred TV screen was surely one of the most spectacular events in human history. 

What had been thought impossible had come true. There were positivists, however, who pointed to this event as a scientific achievement and used it as an argument against religion. Certain bigoted scholars of Islam contended that it was a lie that there had been such an event, and that anybody who claimed that man was on the moon would be cursed. 

The miraculous prediction had come true, showing once again God’s art and power. Photographs taken from the moon reflect once more the splendor of God’s design. The mass of the moon, the moon’s distance from the earth point to God’s splendid design. Had the mass of the moon been larger or had the moon been nearer the earth, the continents would be flooded following the tide, rendering our survival impossible. 

Verse 20 that comes after verses 18 & 19 in which the journey to the moon is predicted, which reads: “So, why do they not believe?” may refer to the unbelievers and atheists who remained blind to God’s splendor and wisdom, considering this a victory of science over religion. This misconception accounts for the misinterpretation of God’s ways, namely the fact that science is nothing but the entirety of rules He infused into matter. They labor under the delusion that science and religion vie for supremacy. The origin of science and religion is God. Two things that emanate from God cannot be contradictory. Any contradiction may have been due either to scientific errors or to bigoted theologians who dared to make announcements in the name of God. Verse 21, coming after the verses that I have analyzed in this section, is as follows: 

21- And when the Quran is read to them, they do not fall prostrate. 
84-The Splitting, 21 

THE MOON HAS SPLIT

1- The Hour has come closer and the moon has split (shaqqa). 
54-The Moon, 1 

There is another indication in the Quran in the above verse referring to the landing on the moon. In order to have a better insight into this, let us dwell on the connotation of the Arabic word “shaqqa” which, among its multifarious meanings, signifies “rending asunder,” “splitting,” “fissuring;” it may also signify plowing the soil. 

25- We pour forth water in abundance. 
26- And We split (shaqqa) the earth in fragments.
 
80-He Frowned, 25-26 

As we see, to describe the fissures made by water on the earth’s soil, the same word “shaqqa” is used. One of the most important events that occasioned man’s visit to the moon was the sampling of the soil on the surface of the moon. The surface of the moon was fissured by man for the first time in history. The term “shaqqa” may refer to this cleavage. We have examined the 1st verse of the sura “The Moon.” The 2nd verse of the same sura addresses the wrongdoers who preferred to ignore the evidences of God. 

2- Yet if they see a sign they turn away and they say, “A continuous sorcery!” 
54-The Moon, 2

Friday, May 28, 2010

CLOUDS AND THE PROCESS OF RAIN



CLOUDS AND THE PROCESS OF RAIN


43- Do not you see that God drives the clouds, then joins them together, then piles them on each other, then you see the rain comes forth from between them. And He sends down hail from the sky, where there are mountains of it. And strikes those with it whom He will and diverts it from whomever He wills. The vivid flash of its lightning nearly blinds the sight.
24-The Light, 43

Water is life. The greater portion of water that is the basic need for the living beings on earth is in continuous motion and transformation. The uninterrupted sequence of these successive transformations is referred to as cycling. Water is always present in the air. It goes without saying that this state of water differs from its state in the seas and rivers. The formation of clouds by water in the state of vapor, the transformation of these clouds into rainwater and their falling upon the earth as precipitation are the result of God’s impeccable cycling system. More than 1400 years ago, the Quran began to draw our attention to the facts that today can be established only by the help of satellites. Scientists studied types of clouds and established that they were the consequence of well-designed systems and stages. Meteorologists examined the cumulonimbus clouds. The stages they described tallied with the process described in the sura The Light, verse 43.

1- Clouds move thanks to winds: The fact that the wind is the primary cause in the process of the formation of clouds that generates rain is depicted in the sura, The Romans, verse 46 (In the previous chapter, we saw the role played by wind in the formation of clouds).

2- Joining: Then the small clouds combine to form a single large cloud.

3- Piles them on each other: When the small clouds join together, updrafts within the larger cloud increase. The updrafts near the center of the cloud are stronger than those near the edges. These updrafts cause the cloud body to grow vertically, so the cloud is stacked up. This vertical growth causes the cloud body to stretch into cooler regions of the atmosphere where drops of water and hail formulate. When these drops of water and hail become too heavy for the updrafts to support them, they begin to fall from the cloud as rain, hail, etc.

GENIUS OF A MAN?

Meteorologists have acquired what they know about the formation, structure and function of clouds only in recent years by the help of satellites, computers and balloons. It is significant to read about the formation of clouds in the Quran. Today’s data are obtained through the use of instruments and satellites that have a panoramic view of clouds from above, otherwise, it would be impossible for men living on the surface of the earth to have an insight into the updraft in the clouds during their formation and the precipitation emerging from this cloud expanding vertically.

In the verse above, the simile of “mountain masses” is an apt one, since the cumulonimbus rain clouds at an altitude of 5-6 km present a formation like a mountain.

While the verse reveals knowledge unavailable at the time of the Prophet, there is no mention whatsoever of the misconceptions of the time. Up until the 1600s the western world was dominated by the meteorological lore of ancient Greece, itself a hotchpotch of correct and wrong data. It was believed that the atmosphere was made up of two different types of vapor, namely the dry and the moist; that thunder was the outcome of the collision of dry clouds with their neighbors, and that the flash of lighting was produced by the kindling of the dry vapor. In the verse in question no such false information has been provided, while a description is made of the flash of lightning, along with the downfall of rain and hailstones, establishing a link between them. The lightning flash in atmospheric electricity is the total observed luminous phenomena accompanying a lightning discharge, which is a series of electric processes by which change is transferred within the atmosphere along a channel of high ion density between electric charge centers of opposite sign. The water droplets within the clouds are a source of electricity. The water droplets falling down as a result of gravitation break down into yet smaller droplets with positively charged electricity while the surrounding atmosphere is negatively charged. The electric charge of droplets increases at each division into smaller units. Along with the emergence of the electrical charge as a consequence of disintegration of water droplets, the ice crystals at the upper portion of the cloud gain positive electricity charge, thus separating from the atmosphere with negative charge and increasing the electrical charge of the cloud. This process results in an electric arc, i.e., a flash of light. The verse draws attention to the connection of the precipitation with the flash of lightning, leaving out the wrong information that attributes this process to the kindling of clouds. Describing the meteorological process that creates rain accurately, while eliminating the false ideas predominant at the time successfully, cannot be explained as pure coincidence or the genius of a man.

12- It is He who shows you the lightning for fear and hope,
and raises heavy clouds.

13-The Thunder, 12

Saturday, May 22, 2010

THE SUN ALSO MOVES ALONG




THE SUN ALSO MOVES ALONG

38- And the Sun moves on to its destination. That is the ordinance of the Mighty, the Knower.

36-Ya-Seen, 38

For a long time in the past men thought that the earth was stationary and that the sun revolved around the earth. Later Copernicus, Kepler and Galileo postulated the theory that the sun was stationary and that the earth revolved about the sun. It was even later, thanks to sophisticated telescopes and the accumulation of cosmological data, that it was concluded that the sun was moving as well and the earth revolved about the sun in motion. Despite the fact that it took science this long, this motion of the sun had already been told 1400 years ago in the Quran. Contrary to the assertion that the sun traced a vicious circle about the earth or that it was stationary, the 38th verse of the sura Ya-Seen stated correctly that it moved on to its destination. As in other subjects, in this one also the Quran is the source that gave a correct account of the sun’s motion.

THE METHOD OF THE QURAN AND THE METHOD OF SCIENCE

A book of science purports to demonstrate the theses it advances and the points of reference. The Quran is the message from the Creator of the Universe and describes the Universe in the word of its Creator, in a style different from that of a book on science. The fact that basic statements about the universe in the Quran were destined to come to light after the lapse of more than a millennium, that none of its statements referring to various scientific issues contained errors, shows that the Quran is the book of the Creator of the Universe. Unlike a scientific treatise that tries to find answers to such inquiries into the whys, wherefores and hows and seeks corroborative proofs to theories advanced, the Quran makes final statements. The scientific method has to follow a well-known path before it formulates the postulates toward which the Quran draws a beeline.

We see that the methodological ways of science differ from the direct communications of the Quran. Regardless of statements made, science must follow its own path consisting of stages. This is a consequence of the structure of scientific knowledge. As a matter of fact, the Quran promotes scientific research both upon the earth and in space. On the other hand, I am not trying to create a contest between science and the Quran by juxtaposing the Quranic statements and the secular scientific conclusions. What I have been trying to do is to draw attention to the fact that the straightforward statements made in the Quran tally with the conclusions of science arrived at by following predetermined stages of research, thus proving the realization of what has been predicted in the Quran. The Quran’s origin is the Creator, who is the Knower of Everything. The information directly communicated by the Quran was inaccessible through scientific methods which would have recourse to the accumulation of data, formulas, observations and technical findings. The Creator of both the universe and the rules governing it had already communicated the findings of science in the Quran.

THE SPEED OF THE SUN

The sun moves at a speed of 700,000 km/h in the direction of the star Vega, following its orbital path referred to as the Solar Apex. The Earth rotates around its own axis while revolving about the sun, moving along with the Solar System.

The sun rises every morning and sets every night. However, the points where it rises and sets are never the same. The earth travels around the sun, which moves in the universe without ever passing through the same point. To imagine that in the course of time elapsed from the time at which we started reading our book until now that we are reading this very page, the sun, along with our world, have traveled a few million kilometers, and that we have not been adversely affected by this motion in any way whatsoever, may give use a clue of God’s system.

RISING POINTS OF THE SUN

5- The Lord of the heavens, and the earth, and all that lies between them, and the Lord of the easts (places where the sun rise).
37-Who Stand in Row, 5

Because the earth has a spherical shape, the sun that rises somewhere sets simultaneously somewhere else. Night and day chase each other. Therefore we cannot speak of a given point from which the sun rises, but rather of different points. The hour of dawn is different at every single point of our sphere. Every spot on the earth expects the rise of the sun while it is “rising” at different spots in space. The sun we behold every morning is a giant nuclear reactor. This reactor, generated by the conversion of hydrogen atoms into helium, performs its task marvelously. We continue our journey in space unaware of the immense speed of our source of life toward our predestined point. God’s omnipotence and the Quran’s miracles will unfold to those who take heed, who have an inquiring mind and are truthful in their approach to the Quranic verses.

43- And such are the parables we set forth for the people, but only those understand them who have knowledge.
29-The Spider, 43 80

Sunday, May 16, 2010

MAN CREATED FROM DUST AND WATER



MAN CREATED FROM DUST AND WATER

All these constituents are obtainable at reasonable prices. The cost of all these elements is not any higher than a hundred dollars according to the New York Stock Exchange. Yes, a hundred dollars exactly is the basic price of man. God created man out of a combination of elements that costs almost nothing. The mystery does not lie in the material out of which man is made, but in the Creator...

2- Praise be to God, Lord of the worlds.
1-The Prologue, 2

QUINTESSENCE OF CLAY

As it is explained in the sura The Believers, Verse 12, man was created from a quintessence. God combined the elements contained in clay as a result of fine calculations. These elements are harmoniously and proportionately distributed in the body at birth; the body is programmed to make use of them in due proportion and to dispose of any surplus. The human body contains about 2kg calcium. If there is a decrease in this amount, the very act of biting into an apple may cause our teeth to break. Our body needs 120gr of potassium. A decrease of it may cause muscle cramps, fatigue, intestinal troubles, and palpitations. We need only about 2gr to 3gr of zinc. Any lowering in these values may cause loss of memory, impotence, decrease of the capability to act and weakening of the senses of smell and taste. Insufficiency of selenium may bring about the weakening of muscles, hardening of arteries and heart muscles...

All these data show that God, while making use of clay as raw material for man, combined its constituents in ideal proportions. The Quran is exact in its statements. Creating a living being such as man from such ordinary matter is one of the manifestations of the omniscience of God. Careful combination in due proportion of all the constituents of the human body demonstrates God’s matchless design. The creation of man, a masterpiece, out of a matter of simple aspect like clay, shows again the greatness of God.

WATER BECOMES ALIVE

30- ...and from water We made all living things. Will they
not believe even then?

21-The Prophets, 30

45- God created every moving creature from water...
24-The Light, 45

In the 54th verse of the sura The Distinguisher, it is said that human beings are created from water, and in the suras The Prophets and The Light it is said that all living beings are created from water. Water is the basic biological element of living matter. Cells are made of water in proportions varying between 60% to 80%. A cell whose basic element is water is a living thing. Without water there is no life. Water is composed of two hydrogen and one oxygen atoms. Water, whose chemical constituents have been arranged perfectly, is made of atoms devoid of organic life and 99% vacuum. How is it that living beings and animals are created from something of which 99% is void? How is it that an entity made of an inorganic and inanimate matter comes to life?

24- He is God, the Creator, the Maker, the Designer; to Him belong the most beautiful names. Whatever is in the heavens and the earth glorifies Him. He is the Almighty, the Wise.
59-Exodus, 24

2- Verily, We created the human from a drop of a liquid mixture in order to try him. Thus We made him a hearer and a seer.
76-The Human, 2

Analyses in detail of organs and substances in the human body could be made with the invention and development of the microscope. These analyses showed that semen is composed of spermatozoa in their nutrient plasma, secretions from the prostate, seminal vesicles and various other glands. Citric acid, prostaglandin, flavins, ascorbic acid, fructose, phosphorylcoline, cholesterol, phospholipids, fibrinolysin, zinc, acid phosphatase, and sperm are among the various constituents of the semen.
Our body is one of the best, the most beautiful and the most complicated of works. Thanks to it, we are able to see and hear, to perpetuate our lineage; thanks to the skills of this body we can design and build machines, computers, bridges and airplanes and do paintings, carve statues and compose music. Our body is the product of one of the initial stages of creation, that entailed the creation of all the constituents of the semen. This was to be followed by the physiochemical processes involved in the union of the male and female gametes to form the zygote, the fertilized ovum before cleavage. The explanation of only the sperm cord or the prostate gland would take hundreds of pages. Our Creator refers in His book to a “liquid mixture.” Our analysis of this mixture and its constituents contributes to our increasing wonder at the presence of the miraculous creation of our body.


THE UNIVERSE IN GASEOUS STATE



THE UNIVERSE IN GASEOUS STATE

11- Then He turned to the heavens, and it was in a gaseous state. And said to it, and the earth; “Come into existence, willingly or unwillingly.” They said, “We come willingly.”
41-Elucidated, 11

“Dukhan” is the word used in Arabic for smoke, vapor and gaseous matter. It appears that the universe was a gaseous mass before it reached the state - by the will of God - from which the universe and the earth came to be.

We know that our world, the sun and the stars did not come about immediately after the primeval explosion. For the universe was in a gaseous state before the formation of the stars. This gaseous state was initially made of hydrogen and helium. Condensation and compression shaped the planets, the earth, the sun and the stars that were but products of the gaseous state. The discovery of these phenomena has been rendered possible thanks to successive findings as a result of observations and theoretical developments. The knowledge of all contemporary communities during the time of the Prophet would not suffice for the assertion that the universe had once been in a gaseous state. The Prophet himself did not claim to be the author of the statements in the Quran as it often reminded, declaring that he is simply a messenger of God.

49- This is news of the unseen which we reveal to you, which neither you nor your people knew before. So, be patient. Surely the end is for the dutiful.
11-Hud, 49

VOLATILE GASES TO ONE DAY BE TRANSFORMED INTO MAGNOLIAS

It is evident that the aim of the scientific miracles expounded in the Quran was not only to perform miracles, or to teach us some scientific facts. The knowledge provided by the Quran is of paramount importance. The Book focuses our attention on the ingenuity of the creation full of marvels. The fact that it miraculously predicted events, the knowledge of which was unattainable at the time of the revelation of the Quran, is not the only important point. It also provides consequential knowledge. Take for instance sura 41, verse 11: the fact that the Quran revealed 1400 years ago that the universe was previously in a gaseous state is a miracle. But the fact that the universe was not confined to its original state, but expanded in the wake of the primeval explosion and from this there emerged - within the framework of laws imposed by God - the stars, the planets, human beings and the magnolias are also part of His miraculous creation. In witnessing these miracles unfolded in the Quran we must not lose sight of the level of knowledge of the time and what is concealed behind the expressions.

We witness perfect operation of the physical laws in creation as the smoke of gas compressed formed the stars. Gravitational power caused the smoke to contract and the stars to be born, but the gravitational force does not go to extremes, and prevents the star from becoming a black hole. What can be the agent behind this process involving infinitesimal calculations, if not the Creator? Natural laws that encompass the entire universe also apply to the formation of stars. The objectives were targeted by the Creator on the eve of creation. Gravitation is not something intelligent and sentient and cannot be the author of all these formations. What a grotesque sight we would behold had the Creator had recourse to a chain to hold fast all the celestial bodies instead of the gravitation he devised. The problem was solved by His ingenious creation of gravity. Isaac Newton (1642-1724), who considered gravity the natural law imposed by the Creator, was the first scientist to discover laws of gravity. But neither he nor any other scientist could discover the fact that the universe was in a gaseous state in the beginning, neither before the revelation of the Quran, nor 1000 years afterwards. The sun that warms us, the blue oceans, the musical notes, the taste of our dishes have their origin in that gaseous state.

11- Indeed this is a reminder,
12- For anyone who desires to bear it in mind.

80-He Frowned, 11-12

Friday, May 14, 2010

WE ARE CREATED OUT OF NOTHING


WE ARE CREATED OUT OF NOTHING

117- Creator of the heavens and the earth from nothingness, He has only to say when He wills a thing, “Be,” and it is.
2-The Cow, 117

The Arabic word “beda’a” means creation of something out of nothing. This word also connotes the fact that something is created not on a pattern previously designed of something but as a completely new entity having no precedence. The greatest marvel of the creation is the creation of all concepts out of nothing. Think of the spectrum of colors. None of us can visualize a color that we have not already seen, nor can we produce that color. We are familiar with colors that already exist, but we cannot possibly create a new color. God, on the other hand, created all colors at a time when the concept of color did not exist, just as the universe did not exist before. To create a concept and its range of contents out of nothing is beyond human imagination and power.


Atheists contend that matter existed from eternity, that it had no beginning and that all formations evolved fortuitously. For example, in his books, famous materialist theoretician George Politzer contends that the universe was not created; had it been so, the universe would have been the work of a God who would have created it at a given moment out of nothing, that in order to be able to accept the theory of creation, one had to posit the existence of a moment when there was no universe, as it was to emerge from the void.

Atheism is the belief that God does not exist and materialism is the belief that only physical things have reality. These two words are often used as synonyms. Atheists who refute God’s existence accept the infinite existence of matter, and are, consequently, materialists. Atheists contend that matter was not created but existed from eternity. The postulate of the eternal existence of God and that matter was created goes back to the monotheistic religions. All the monotheistic religions postulate that God existed from eternity and that matter was created by God. The fact that matter was created also proves the existence of God and that Judaism and Christianity and Islam are religions revealed by God.

It is true that there are still some people today who worship the sun, the moon and fire. They carry on their practices and rituals without any logical, scientific or philosophical justification. It is futile to logically or scientifically refute beliefs that do not value reason, logic and science. Such people need evidence that would break down their prejudices and relieve them of their obsessions. Throughout history there have been three separate viewpoints that allege to be in conformity with reason and science. These viewpoints at least declare that they accept reason, logic and science as criteria. In the present book, I shall try to expound on these ideas and analyze their relevancy.

These three views are:
1) Monotheism: There is but one God, He that created this magnificent physical universe and everything in it, living or inanimate.

2) Atheistic materialism: Matter has been in existence since eternity. Everything is made of matter from a chain of fortuitous events.

3) Agnosticism: We cannot know which of these two viewpoints is correct. Both may be justified in their postulates. Essentially there are two fundamental alternatives. For the third announces that none of these views can be proved rather than propounding a new view. The agnostic point of view contends that we cannot know whether matter and things were created or not. For instance in his Dialogues Concerning Natural Religion, David Hume’s (1711-1776) three interlocutors exhibit contrasts, namely “the accurate philosophical turn of Cleanthes” with “the careless skepticism of Philo” and “the rigid inflexible orthodoxy of Demea;” the words of Philo reflect the agnostic attitude. Kant (1724-1804) in The Critique of Pure Reason asserts that we cannot know whether matter was created or not. (Although his ideas were agnostic in character, Kant believed in God.)

THE BIG BANG INVALIDATES BOTH AGNOSTICISM AND ATHEISM

The agnostic’s assertion may be expressed by the sentence, “We cannot know whether there is a God or not, and we cannot know whether the universe has been in existence since eternity or not.” He believes that nothing is or can be known. If the hypothesis “Matter had a beginning” is confirmed, the assertion that “Matter had no beginning” would be refuted and the contention “We cannot know whether it had a beginning or not” will be proved wrong. Thus, demonstration of the fact that matter had a beginning is a blow not only to atheism but also to agnosticism and skepticism. Once the hypothesis of the beginning and creation of matter has been confirmed, the atheists should abandon their disbelief and the agnostics their skepticism. If you remember the words in the sura The Prophets, verse 30, “Will they not believe even then?” this statement in the verse that described the Big Bang is a sign according to which the unbelievers will stick to their own convictions, or lack of conviction. It has become clear that an agnostic is no different than a man who worships the cow and the denial of the atheist is tantamount to the adoration of fire; these people base their philosophies on absolute lack of evidence, sheer delusion, total lack of logic and scientific reasoning.

The claims of rationality and the so-called scientific approach of the atheists and agnostics have been debunked. In the coming pages we shall see that both in the creation of the universe, in things created within the universe and in the creation of living beings, an intelligently designed process is going on, and we shall demonstrate that the objections of agnostics and skeptics to this assertion are merely delusions.

BEFORE THE BIG BANG

It was understood that time existed in relation to the movements of matter. As matter and its movements did not exist prior to the Big Bang, time did not exist before the Big Bang. Matter and time came into being after the Big Bang. Their existence depends on each other. Roger Penrose and Stephen Hawking conclusively proved in mathematical terms that the universe had had a beginning. The Big Bang theory confirmed the hypothetical alternative suggested by atheists that the universe had to have a beginning if it had been created. In brief, the claims of atheists have been proven wrong in scientific terms and in terms of logic and reason; and yet the atheistic attitude is still prevalent today due to reasons like stubbornness, delusion and arbitrariness. If there are two theses that negate each other, the substantiation of either of them disproves the other’s argument. The contention of atheists that matter existed from eternity having thus been falsified, the fact that it was created becomes the incontestable truth, discrediting the conviction of unbelievers. Insistence of denial of this proven fact is a gross mistake and an example of inexcusable dogmatism.

49- To the contrary, these are clear signs in the hearts of those who are granted knowledge. None deny Our messages except the unjust.
29-The Spider, 49

TEACHINGS OF THE BIG BANG

The Big Bang theory confirmed that the universe and time had a beginning and that matter did not exist from eternity but was created. The assertion that the universe existed from eternity was thus debunked. The Big Bang not only demonstrated that the universe was created by the Creator, but at the same time the false beliefs like the distribution of sovereignties among divinities, each having under his command the earth, the sun, the moon and the mountains respectively, were proved wrong. It became clear that whoever He was Who had devised the initial composition of the universe, having recourse to the Big Bang, was the Creator of everything. Thus the universe was under the exclusive control of One Single Power and this power was not shared. The universe evolved from a single point; the Author of that point was also the Originator of men, rivers, stars, butterflies, supernovas, colors, suffering and happiness, music and aesthetics. Since everything came into being emerging from the oneness, He must be the Author of that “oneness.

The Big Bang showed that the matter idolized by atheists, and the matter that makes up the entire universe is but an insignificant speck of dust, so to say. Those who witnessed that from that insignificant speck there have emerged men, beasts, plants, and the universe in its glowing colors understand that the genius was not inherent in the matter itself but in something exterior to it, i.e., in the Creator. Close your eyes and try to imagine the void and open them to behold the trees, the seas, the heavens, your own image reflected in the mirror, the food put at your disposal for your consumption and the works of art. . . . How could all these glorious things have emerged all by themselves from the dark and from one single point in the void? For intelligent minds, the creation unfolds itself not only in artistic aesthetics but also in mathematical terms. The velocity of expansion of the universe is of such a critical point that, according to the expression of a scientist, had the velocity been different at the primeval explosion less than 1/1018, the universe would have collapsed, sinking unto itself and never coming into being as it is. Likewise had the quantity of matter been less than it actually was, the universe would have scattered around, rendering the formation of the celestial bodies impossible. The force applied in the disintegration of the initial composition at the moment of creation is not only incommensurably great, but the design behind it is infinitely ingenious. Thus everything was designed by our Creator to make possible the existence of the universe. All these events are meant to show the blindfolded the infinite power of our Creator and the fact that He designed everything to the most infinitesimal detail perfectly. We are witnessing another fact through these phenomena: impossibility does not exist in the vocabulary of the Creator; it suffices Him to wish that something come about, and there it is.

Wednesday, May 12, 2010

DIFFICULTY OF ASCENDING TO THE SKY

DIFFICULTY OF ASCENDING TO THE SKY



125- ...And whomever He wills to send astray, He makes his bosom narrow and strained as if he was ascending into the sky.
6-The Cattle, 125

A person subject to spells of dejection and who feels strained is likened to a person who is ascending to the sky. We know today that during ascension, atmospheric pressure gradually decreases, rising blood pressure causing strain on the functioning of heart and veins topped by lack of oxygen, which in turn influences the lungs, making one feel constricted. If one persists going even higher, there comes a moment when the individual loses his life.

There were no airships or aircraft at the time of the Prophet. Torricelli was the person who in 1643 invented the mercury thermometer with which he demonstrated that the atmosphere exerted a pressure. To speak of a decrease of pressure at the time was out of the question. Nor was there reliable information about circulation of the blood or lungs. One can guess that men climbed heights and had difficulty breathing as they went higher and higher. In the verse, however, ascension is toward the sky. A person experiencing difficulty of respiration on top of the mountain he has climbed may attribute this difficulty not to the lack of sufficient oxygen at the high altitude to which he has climbed. The verse speaks of a process that takes place as one rises to the sky. The question is not of the experience one has on the top of a hill. Ascension to skies has a much wider connotation.

OPTIMUM PRESSURE AND OXYGEN FOR PERPETUATION OF LIFE

The oxygen and pressure ratio being ideal, a man’s bodily functions run across no difficulty from sea level up to a height of 3000 meters. At altitudes ranging from 3000 to 5000 meters, elevated blood pressure and difficulty breathing are experienced. At an altitude of 7500 meters, the tissues are badly in need of oxygen. Above this height, a person experiences a blackout; the blood circulation, the respiration and the nervous system begin to falter. Changes in atmospheric pressure affect the circulation, increasing the pressure of the blood running through the veins and arteries. The balance of gases in the vacuums of the body and the distribution of gases in the blood and tissues (in particular of the nitrogen) is upset. The mechanical effect of a sudden rise and fall in blood pressure results in the rupture of blood vessels. Effects of the changes in gas volumes may be grouped as follows: eardrum ruptures, inflammation of the middle ear, sinusitis due to change in the volume of air in the sinuses, toothaches (dental carries), difficulty passing gas, and colic...

Thanks to the ideal proportion of oxygen, we can comfortably breathe and our circulation functions properly. Prof. Michael Denton says that if the density of the air had been a little higher, the air resistance would reach great proportions and it would be impossible to design a respiratory system to supply enough oxygen for a breathing organism. Between the possible atmospheric pressures and the possible oxygen proportions, looking for an optimum digital value for life, the bracket we come across is a highly limited one. The fulfillment of so many requirements for survival within this narrow bracket certainly points to perfect design.

The perfection of God’s creation becomes once more manifest in the course of our study of the atmospheric pressure, in harmony with the oxygen content of the air, suiting our biological makeup.

Most Popular Articles